Wednesday, 13 June 2012

Urdu: ahle hadees / salafi ke devta god



بھگوان ، دیوتا اور غیر مقلد فرقہ
ویسے تو ہندو 33 کروڑ دیوتاؤں (خداؤں) کے قائل ہیں لیکن ان کے تین بڑے دیوتا بڑے مشہور ہیں جن کا نام ’’برہما‘ وشنو اور شیو ہے۔ آپ نے صرف ہندؤں اور مشرکوں کے مذہب میں ہی دیوتاؤں کا تصور پڑھا اور سنا ہوگا لیکن یہ سن کر آپ کو حیرت ہوگی کہ اہل حدیث فرقہ بھی ہندؤں کی طرح دیوتاؤں اور بھگوانوں کا قائل ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ یہ فرقہ اپنے آپ کو سب سے زیادہ شرک کا دشمن اور توحید کا علمبردار قرار دیتا ہے لیکن ان کی تصویر کے دوسرے رخ‘ توحید اور اسلام کی بنیادوں کو ختم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور اس بات کو واضح کردیا ہے کہ اہل حدیث فرقہ کی جڑیں بالاخر اہل شرک و ہنود کے دھرم سے جاملتی ہیں۔ قارئین آنے والے حوالہ جات سے خود فیصلہ کرسکتے ہیں۔
اہلحدیث فرقہ کا پہلا دیوتا
شریف گھڑیالوی کو اہل حدیث فرقہ دیوتا کا مقام و مرتبہ دیتا ہے‘ شریف گھڑیالوی ایک عرصہ تک صوبہ پنجاب کی جماعت اہل حدیث کا امیر رہا اور اسی عہدہ پر اس کی موت ہوئی۔ اس کو دیوتا قرار دیتے ہوئے

وہابیوں کے زبردست عالم و مورخ اسحاق بھٹی نے لکھا
سکھوں اور ہندؤں نے اس مرد موہن (شریف گھڑیالوی) کو دیوتا قرار دیا اور بالکل صحیح قرار دیا
(کاروان سلف ص 55‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ فیصل آباد)

قارئین کرام! دیکھا آپ نے‘ کتنی بے باکی کے ساتھ اپنے وہابی عالم کو دیوتا قرار دیا جارہا ہے۔
اہلحدیث فرقہ کا دوسرا دیوتا
قاضی محمد سلیمان منصور پوری‘ سکھ ریاست پٹیالہ کا سیشن جج اور اہل حدیث فرقہ کا زبردست سیرت نگار تھا‘ اس کے مرنے کے بعد اہل حدیث فرقے نے اس کے حالات زندگی قلمبند کئے‘ اہل حدیث فرقہ کا ایک دیوتا سے دل نہ بھرا تو شریف گھڑیالوی کی طرح قاضی سلیمان کو بھی دیوتا قرار دے دیا‘ چنانچہ وہابیوں کے مایہ ناز مورخ اسحاق بھٹی نے اپنی کتاب تذکرہ قاضی محمد سلیمان میں لکھا

غازی (محمود وہابی) صاحب لکھتے ہیں: قاضی محمد سلیمان منصور پوری سیشن جج پٹیالہ جج اجسام کے دیوتاؤں میں سے ایک زندہ دیوتا تھا۔
(تذکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری ص 208‘ مطبوعہ مکتبۃ السلفیہ شیش محل روڈ لاہور)
انا و بغض نبی نے ہر بند سے آزاد کیا
لا کے کعبہ سے صنم خانہ میں آباد کیا

اہلحدیث فرقہ کے نزدیک اﷲ تعالیٰ اور ہندؤں کے بے ہودہ دیوتا ’’پرماتما‘‘ کے درمیان کوئی فرق نہیں

ہندو اپنے دیوتاؤں میں سے ایک دیوتا کو ’’پرماتما‘‘ یا ’’ایشور‘‘ کہتے ہیں۔ ہندؤں کے نزدیک ان کے اس خدا کی عجیب و غریب صفات ہیں‘ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ دن اور رات‘ ایشور (پرماتما) کی دو بغلیں ہیں‘ سورج اور چاند اس کی دو آنکھیں ہیں۔ سورج کی دھوپ اور بجلی کی چمک یہ دونوں ایشور (پرماتما) کے ہونٹ اور سورج اور چاند کے درمیان جو خلا ہے‘ وہ اس کا منہ ہے۔ نیز ہندؤں کے نزدیک ان کا یہ خدا‘ چوری کرتا بھی ہے اور کرواتا بھی ہے اور جوئے (قمار بازی) سے تو اتنا خوش ہوجاتا ہے کہ یہ خوشی اس کو بالکل بدمست کردیتی ہے۔ پرماتما کی ان تمام صفات کو وہابی مولوی عبدالمجید سوہدری نے اپنی کتاب سیرت ثنائی میں وہابی مناظر ثناء اﷲ امرتسری کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔
(ملخصا سیرت ثنائی صفحہ 231,230 مطبوعہ نعمانی کتب خانہ لاہور مصنف عبدالمجید وہابی)

قارئین کرام نے اندازہ لگالیا ہوگا کہ ہندؤں کا پرماتما اور ایشور نامی خدا کس قدر کمینی صفات کا حامل اور کس قدر گندی حرکتوں کا مرتکب ہے‘ لیکن آپ یہ سن کر سکتہ میں آجائیں گے کہ اہل حدیث کے نزدیک پرماتما اور اﷲ تعالیٰ میں کوئی فرق نہیں۔ ان کے نزدیک ہندو اﷲ کو پرماتما کے نام سے ہی مان رہے ہیں‘ چنانچہ غیر مقلدین کے مولوی قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھا
‘‘انہیں (یعنی ہندؤں کو) یہی سمجھانا ہے کہ تم اپنے تئیں ’’اﷲ واحد‘‘ کو ’’پرماتما‘‘ کے نام سے مانتے ہو’’
(تزکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری ص 290‘ مطبوعہ مکتبۃ السلفیہ شیش محل روڈ لاہور)
ہونکو نام جو ایماں کی تجارت کرکے
کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے

اہل حدیث فرقہ کے نزدیک ہندؤں کے
بھگوان‘ نبی اور ہادی ہیں


ہندو لاکھوں کروڑوں بتوں کو بھگوان سمجھتے ہیں اور اس وجہ سے ان کو کافر اور مشرک قرار دیا جاتا ہے۔ اہل حدیث فرقہ کو ان بھگوانوں سے کس قدر محبت ہے‘ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگایئے کہ ہندؤں نے تو ان بھگوانوں کو خدا مان لیا۔ اہل حدیث فرقہ نے ان بھگوانوں کو ہادی اور نبی مان لیا۔ نعوذ باﷲ من ذالک‘ چنانچہ اپنے اس عقیدہ کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اہلِ حدیث فرقہ کے مولوی اسحاق بھٹی نے ‘اپنے فرقہ کے سیرت نگار قاضی محمد سلیمان کے حوالہ سے اس طرح نقل کیا
جن بھگوانوں کی ہستی کو تاریخ ثابت کردے انہیں ہادی (یا نبی) مان لو
(تذکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری ص 291 مطبوعہ مکتبۃ السلفیہ شیش محل روڈ لاہور)
وضع میں تم ہو نصاری تو عقیدہ میں ہنود
یہ وہابی ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود


نیز غیر مقلدین کے نزدیک ہندؤں کے دیوتا اور بھگوان مثلا رام چندر‘ لچھمن‘ کرشن‘ بدھا وغیرہ کی نبوت کا انکار درست نہیں۔ نعوذ باﷲ تعالیٰ
تفصیل کے لئے دیکھئے اہل حدیث فرقہ کی مشہور و معروف کتاب ہدیۃ المہدی من الفقہ المحمدی ص 85 مصنف وحید الزماں وہابی
اہل حدیث فرقہ کے نزدیک وہابی مولوی
اﷲ سے لڑ کر اپنی بات منوالیتے ہیں


اﷲ تعالیٰ کے پاس سب سے زیادہ طاقت اور قوت ہے‘ غیر اﷲ میں سے کوئی بھی اﷲ تعالیٰ کے مقابلہ میں نہ اپنی طاقت دکھا سکتا ہے‘ نہ اس زبردست قوت سے لڑ سکتا ہے اور نہ اس سے زور زبردستی سے اپنی بات منوا سکتا ہے‘ لیکن اہلحدیث فرقہ کا ایک مولوی ایسا بھی ہے جس کے متعلق اہلحدیث مذہب کے ماننے والوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ سے لڑ بھی لیتا تھا اور اپنی بات بھی منوالیتا تھا‘ اس مولوی کو یہ لوگ مجاہد اسلام صوفی محمد عبداﷲ کے نام سے یاد کرتے ہیں‘ چنانچہ وہابیوں کے مورخ اسحاق بھٹی نے صوفی محمد عبداﷲ کے متعلق اپنے فرقہ کا عقیدہ ظاہر کرتے ہوئے لکھا
مولانا احمد الدین گکھڑوی نے فرمایا ’’صوفی عبداﷲ تو خدا سے لڑ کر بات منوالیتا ہے
(صوفی محمد عبداﷲ ص 392‘ مطبوعہ شاکرین شیش محل لاہور)
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
دیکھ اڑ جائے گا ایمان کا طوطا تیرا

اہل حدیث فرقہ کے نزدیک اﷲ‘ انسانی شکل میں
دنیا میں آکر خدا نہ رہے گا


ہندؤں کے نزدیک ان کے دیوتا اور بھگوان انسانی شکل میں دنیا کے اندر آسکتے ہیں اور دنیا میں اپنی کارستانیاں دکھا سکتے ہیں۔ وہابی بھی بالکل یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ انسانی شکل میں دنیا میں آسکتا ہے۔ حیرت بالائے حیرت یہ کہ ہندؤں کے نزدیک ان کا خدا‘ اگر دنیا میں آجائے تو وہ پھر بھی ان کے نزدیک خدا ہی رہتا ہے‘ لیکن وہابیوں کے نزدیک جب اﷲ‘ انسانی شکل میں دنیا میں آئے گا تو وہ خدا ہی نہیں رہے گا‘ نعوذ باﷲ۔ چنانچہ اہل حدیث فرقہ کے زبردست مولوی ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا
خدا اگر چاہے تو انسانی شکل و صورت میں آسکتا ہے مگر جونہی وہ انسانی پیکر میں ظاہر ہوگا وہ خدا نہیں رہے گا اور خدا کے مرتبہ اور منصب سے معزول ہوجائے گا
(خطبات ذاکر نائیک 1‘ ص 76‘ مطبوعہ مونال پبلی کیشنز‘ راولپنڈی)
اف یہ جوش تعصب آخر
بھیڑ میں کمبخت کے ہاتھ سے ایمان گیا

اہل حدیث فرقہ کی کرشن دیوتا کی جنم اشٹمی میں شرکت

ہندؤں کے ایک دیوتا کا نام کرشن ہے‘ ہندو اپنے اس خدا کی پیدائش کا جنم دن مناتے ہیں۔ کوئی مسلمان یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ ان کی اس شرکیہ اورکفریہ رسم میں عقیدت اور احترام کے شرکت کرے‘ لیکن ایک دفعہ ریاست پٹیالہ میں جب ہندؤں نے اپنے مذکورہ دیوتا کی جنم اشٹمی (سالگرہ) منائی تو اہلحدیث فرقہ کے عالم و پیشوا سلیمان منصور پوری کو بھی اس میں مدعو کیا‘ سلیمان صاحب نے اس میں بڑی دلچسپی سے شرکت کی اور اس میں ایک زوردار تقریر بھی کی جس میں ہندؤں کو ان کے مذہب کے متعلق وہ معلومات دیں کہ خود ہندو حیران ہوگئے چنانچہ اسحاق وہابی نے اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا
ایک مرتبہ ریاست پٹیالہ میں کرشن جی مہاراج کی جنم اشٹمی پر ہندؤں نے جلسہ کیا۔ قاضی صاحب کو بھی شرکت و تقریر کی دعوت دی۔ قاضی صاحب نے اس جلسے میں جو تقریر کی‘ ہندو اس سے بہت متاثر ہوئے‘ وہ حیران تھے کہ اس موضوع سے متعلق اتنی معلومات انہیں کہاں سے حاصل ہوئیں‘ وہ تقریر اس دور کے ہندؤں کے کئی رسائل و جرائد میں شائع ہوئی۔ بہت سے تعلیم یافتہ ہندو پوچھتے تھے کہ قاضی صاحب نے یہ نادر معلومات کہاں سے حاصل کیں
(تذکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری ص 120‘ مطبوعہ مکتبۃ السلفیہ شیش محل روڈ لاہور)

قارئین غور فرمائیں کہ یہ وہی وہابی ہیں جو نبی کریم
 کی پیدائش کے دن خوشی‘ جلسے اور جلوس پر بدعت اورشرک کے فتوے لگادیتے ہیں‘ لیکن جب اپنے ہندو‘ دوستوںکی باری آئی تو یہ کفر اور شرک کے سارے فتوے سب ایک طرف رہ گئے اور کرشن کی جنم اشٹمی سب جائز ہوگئی۔
اہل حدیث فرقہ کی ہندؤں کے
شرکیہ تہوار دیوالی میں شرکت


ہندؤں کے ایک مذہبی تہوار کا نام دیوالی ہے جس میں وہ زبردست شرکیہ رسومات سرانجام دیتے ہیں‘ کوئی مسلمان اس میں شرکت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن اہلحدیث فرقہ کے امام و پیشوا ثناء اﷲ امرتسری نے نہ صرف اس میں شرکت کی بلکہ اس دن کو مبارک دن قرار دیا نیز ہندؤں کو جوا کھیلنے کی زبردست ترغیب بھی دلائی‘ چنانچہ عبدالمجید وہابی نے اس بات کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے لکھا

ایک روز دیوالی کے روز ہندؤں نے جلسہ کیا۔ اسے دیکھنے کے لئے آپ بھی تشریف لے گئے۔ اہل ہندو نے آپ کی آمد پر مسرت کا اظہار کیا اور اسٹیج پر آپ کو عزت سے بٹھایا۔ اس جلسے میں بہت سے ہندؤں نے دیوالی کی فضیلت پر تقریریں کیں‘ جب آپ سے درخواست کی گئی کہ اس تیوہار پر کچھ ارشاد فرمائیں تو آپ نے کہا چونکہ اس مبارک دن میں جوا کھیلنے کو بہت سراہا گیا ہے‘ اس لئے اہل ہنود کو چاہئے کہ وہ پھلوں سے جوا کھیلا کریں کیونکہ ایسے پھل آپ کے ایشور اور پرماتما کو بہت بھاتے ہیں‘‘ … الخ
(سیرت ثنائی صفحہ 230 مطبوعہ نعمانی کتب خانہ لاہور)

لاحول ولاقوۃ الا باﷲ … قارئین کرام! دیکھ لیا آپ نے! کس قدر پرجوش انداز میں ہندو مذہب سے لگائو کا اظہار کیا جارہا ہے‘ وہابی کہتے ہیں کہ ہندو اس موقع پر شرمندہ ہورہے تھے۔ راقم الحروف کے نزدیک یہ بات درست نہیں‘ کیونکہ جب ثناء اﷲ نے ہندو مذہب کے موافق باتیں کیں تو ہندو اس موقع پر دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے کہ ارے ثناء اﷲ صاحب تو اپنے ہی آدمی نکلے وہابی ایسے ہی ان کو اپنا عالم سمجھتے ہیں۔
ہندؤں سے وہابیوں کی محبت اورپرتپاک انداز میں ان کا استقبال

مشرکوں‘ دین کے دشمنوں سے دوستی اور محبت نہیں کرنی چاہئے اور نہ ان کی تعظیم کرنی چاہئے‘ جو لوگ ان سے محبت کرتے اور ان کی تعظیم کرتے ہیں اﷲ تعالیٰ نے سورۃ الممتحنہ میں ان پر عتاب وناراضگی کا اظہار فرمایا ہے لیکن غیر مقلدین کو دین کے دشمنوں اور اہل شرک سے بڑی محبت ہے‘ چنانچہ عبدالمجید وہابی نے ثناء اﷲ وہابی کے متعلق لکھا
کسی مذہبی تیوہار کے دن چند ہندو ماتھے پر تلک لگائے آپ کی خدمت میں سلام کی غرض سے حاضر ہوئے اس وقت آپ کے پاس بہت سے مسلمان بیٹھے تھے۔ مولانا نے ہندؤں کو دیکھا تو تپاک اور محبت سے ملے مزاج پرسی کی
(سیرت ثنائی ص 231‘ مطبوعہ نعمانی کتب خانہ لاہور)
آہ !ہندؤں کے منعقدہ جلسہ کی صدارت کیلئے اہل حدیث مولوی نے پنڈت نہرو کو تیار کیا

ہندؤں نے عالمی بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد کیا‘ ہندؤں کی خواہش تھی اس مذہبی کانفرنس کی صدارت ہمارے پنڈت جواہر لعل نہرو کریں لیکن پنڈت کو اس کی صدارت کے لئے راضی کرنا بڑا مشکل کام تھا اور اس مشکل کام کو اہل حدیث فرقہ کے زبردست عالم صوفی نذیر احمد نے آسان کردیا۔ یہ وہابی صوفی صاحب بنفس نفیس ہندؤں کے ساتھ مل کر پنڈت کے گھر گئے اور اس کو راضی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ہندو اس کارنامے سے اس قدر خوش ہوئے کہ صوفی صاحب کو بارہ گلاس لسی کے ایک وقت میں پلا دیئے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے وہابیوں کی مایہ ناز کتاب ’’گزر گئی گزران‘‘ ص 141 تا 144‘ مصنف اسحاق بھٹی وہابی مطبوعہ ادارہ نشریات لاہور
اہل حدیث فرقہ نے اپنے جلسہ میں ہندو لیڈر سے تقریر کروائی

۔ 1945ء کا مشہور ہندو لیڈر‘ جس کو ہندو جے پرکاش نارائن کے نام سے یاد کرتے ہیں‘ جب پنجاب آیا تو وہابیوں نے اس کو فرید کوٹ میں تقریر کی دعوت دی۔ وہابیوں نے بہت بڑا جلسہ منعقد کیا اور لوگوںکو اپنے ممدوح ’’جے پرکاش نارائن‘‘ کی تقریر سنوا کر ہندؤں سے زبردست محبت کا ثبوت پیش کیا۔ تفصیل کے لئے دیکھئے وہابی کی مایہ ناز کتاب
(’’گزر گئی گزران‘‘ ص 392 تا 393‘ مصنف اسحاق بھٹی وہابی مطبوعہ ادارہ نشریات لاہور)
ہولی کے دیئے توڑنے پر اہل حدیث فرقہ کی ناراضگی

ہندو اپنے دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لئے اپنے مذہبی تہوار ’’ہولی‘‘ کے موقع پر دیئے (چراغ) روشن کرتے ہیں۔ ایک دفعہ کچھ بچوں نے وہ دیئے (چراغ) توڑ دیئے تو ہندؤں کو برا لگا ہو یا نہ لگا ہو‘ لیکن اہلحدیث فرقہ کو یہ فعل اتنا برا لگا کہ ان کے مولوی عبدالقادر حصاری نے ان بچوںکو سخت سزا دی‘ ان کے کان پکڑوائے اور ان کے سر بھی منڈوادیئے۔
تفصیل کے لئے دیکھئےوہابیوں کی مشہور کتاب کاروان سلف ص 239‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ فیصل آباد مصنف اسحاق بھٹی وہابی
اہل حدیث فرقہ کا‘ گائے کے پیشاب کو پاک سمجھنا
ہندو مذہب میں گائے کی بڑی عزت ہے اور وہ اس کو ’’ماتا‘‘ مانتے ہیں اور اس کے پیشاب کو بالکل پاک سمجھتے ہیں۔ اہل حدیث فرقہ اس معاملہ میں بھی ہندؤں سے کئی قدم آگے ہے‘ ان کے نزدیک گائے کے پیشاب کے ساتھ ساتھ تمام حرام جانوروں کا پیشاب‘ کتے اور خنزیر کا تھوک اور ان کا جٹھا‘ کتے کا پیشاب اور پاخانہ‘ تمام قسم کے خون سوائے حیض کے خون کے‘ عورت کی شرم گاہ کی رطوبت وغیرہ سب پاک ہیں۔
تفصیل کے لئے پڑھیئے وہابیوں کی مستند کتاب نزل الابرار ص 50,49‘ حصہ و جلد 1‘ مصنف وحید الزماں وہابی مطبوعہ سعید المطابع بنارس ہند ناشر جمعیت اہل سنت لاہور
اہل حدیث کے نزدیک گستاخ رسول کو عزت سے پکارا جائے
14۔ ایک اسلام دشمن ہندو‘ جس کا نام ’’دیانند‘‘ تھا۔ اس خبیث کافر نے قرآن اور رسول اﷲ
 کی شان اقدس پر زبردست حملے کئے تھے اور اس بارے میں ایک کتاب بھی لکھی تھی جس کا نام ستیارتھ پرکاش تھا۔ اسی وجہ سے ہندو اس کے نام کے دائیں‘ بائیں تعظیمی القابات لگاتے تھے مثلا سوامی‘ جی وغیرہ۔ یہ شخص رسول اﷲ کا نام مبارک انتہائی بے باکی اور گستاخانہ انداز میں لیا کرتا تھا‘ لیکن اہل حدیث فرقہ اس کے باوجود اس گستاخ رسول کو ہندؤں کی طرح تعظیمی القابات سے پکارتا اور لکھتا تھا اور کہتا تھا کہ اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے۔ اہل حدیث فرقہ کی گستاخ رسول شخص کے ساتھ یہ محبت اس بات کا ثبوت دیتی ہے کہ اندر سے معاملہ کچھ اور ہے‘ نیز اسلام ہمیں یہ حکم دیتا ہے کہ گستاخ رسول واجب القتل ہے لیکن اہل حدیث فرقہ کے نزدیک اس کی تعظیم کی جائے گی‘ نیز ابوجہل کا اصل نام عمرو بن ہشام تھا اور لوگ اس کو عزت سے ابوالحکم کہتے تھے لیکن مسلمانوں نے اس کا نام ابوجہل رکھ دیا جو سخت معیوب اور قبیح تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ شخص رسول اﷲ کا گستاخ تھا اور دین کا زبردست دشمن تھا۔ لیکن اہل حدیث فرقہ کا اپنا ہی ایک مذہب ہے چنانچہ وہابیوں کے سب سے بڑے مناظر ثناء اﷲ نے کہا کہ
سوامی بڑی عزت کا لفظ ہے آریہ سامجی (دیانند) ہمارے پیغمبر حضرت محمد
 کا نام صرف محمد لکھتے ہیں اور مفرد کے صیغہ سے بیان کرتے ہیں مثلا لکھتے ہیں ’’محمدپیدا ہوا‘‘ ’’محمد کہتا تھا‘‘ جو ایک ادنیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے ہیں مگر ہم ان کے گرو (پیشوا دیانند) کو عزت ہی سے یاد کریں گے کیونکہ اسلام کا ہم کو یہی حکم ہے۔
(حق پرکاش ص 14 ‘ دیباچہ نعمانی کتب خانہ لاہور)

قارئین کرام! وہ فرقہ جو دیوتاؤں کا قائل ہو‘ ہندؤں کے بے ہودہ خدا پرماتما اور اﷲ تعالیٰ کے درمیان کسی فرق کا قائل نہ ہو‘ ہندؤں کے بھگوانوں کو ہادی اور نبی مانتا ہو‘ اپنے مولوی کو خدا سے لڑنے والا قرار دیتا ہو‘ ہندؤں کے عقیدہ کے مطابق خدا کا انسانی شکل میں آنا درست جانتا ہو‘ خدا کے ختم ہوجانے کا قائل ہو‘ ہندؤں کے شرکیہ میلوں ٹھیلوں میں شرکت کرتا اور ان کو اپنے جلسوں میں بلوا کر تقریر کرواتا ہو‘ ہولی کے دیئے توڑنے پر ناراضگی کا اظہار کرتا ہو‘ پیشاب کو پاک قرار دیتا ہو اور گستاخ رسول کو عزت سے یاد کرتا ہو‘ کیا وہ حق پر ہوسکتا ہے‘ فیصلہ آپ خود فرمالیں۔

No comments:

Post a Comment