Wednesday, 13 June 2012

ahle hadees kama sutra



بسم الله الرحمن الرحیم
عرض مرتب
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ غیر مقلدین (جو خود کو اہل حدیث کہتے ہیں) کا وجود انگریز دور سے پہلے نہ تھا۔ انگریز کے دور سے پہلے پورے ہندوستان میں نہ ان کی کوئی مسجد تھی، نہ مدرسہ اورنہ کوئی کتاب۔ انگریز نے ہندوستان میں قدم جمایا تو اپنا اولین حریف علماءدیوبند کو پایا۔ یہی وہ علماءتھے جنہوں نے انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور ہزاروں مسلمانوں کو انگریز کے خلاف میدان جہاد میں لا کھڑا کیا جس نے انگریز کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا اور مسلمانوں میں تفرقہ اور انتشار پھیلایا اور آج تک غیر مقلدین اپنی اسی روش پر قائم ہیں۔
فقہ حنفی جو تقریبا ً بارہ لاکھ مسائل کا مجموعہ ہے اس عظیم الشان فقہ کے چند ایک مسائل پر اعتراض کرتے ہوئے غیر مقلدین عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ فقہ قرآن وحدیث کے خلاف ہے اور غیر مقلدعوام کی زبان پر یہ تو ایک چلتا ہوا جملہ ہے کہ “فقہ حنفی میں فلاں فلاں گندہ اورحیاءسوز مسئلہ ہے” اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ عوام کو آگاہ کیا جائے کہ خود غیر مقلدین کی مستند کتابوں میں کیا کیا گندے اور حیا سوز مسائل بھرے پڑے ہیں۔ افسوس کہ غیر مقلد علماءنے یہ مسائل قرآن وحدیث کا نا م لے کر بیان کئے ہیں۔ آپ یقین کریں جتنے حیاءسوز مسائل غیر مقلدین نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے منسوب کئے ہیں کسی ہندو ، سکھ یایہودی نے بھی اپنے مذہبی پیشوا سے منسوب نہیں کیے ہوں گے۔ غیر مقلدین تقیہ کر کے ان مسائل کو چھپاتے رہے ہیں۔ ان کی کوشش رہی ہے کہ فقہ حنفی پر خواہ مخواہ کے اعتراض کیے جائیں تاکہ ان کے اپنے مسائل عوام سے پوشیدہ رہیں۔
آپ یہ مسائل پڑھیں گے تو ہو سکتا ہے کہ کانوں کو ہاتھ لگائیں اور توبہ توبہ کریں۔ کوئی شاید یہ بھی کہے کہ ایسی کتاب لکھنے کی کیا ضرورت تھی لیکن یہ حقیقت ہے کہ جس تیزی سے اخلاق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر مقلدین اپنا لٹریچر پھیلا رہے ہیں حقیقت کو آشکار کرنا ہماری مجبوری ہے۔کتاب میں حوالے کی کوئی غلطی ہو تو ذیل کے پتہ پر مطلع فرمائیں تا کہ اگلے ایڈیشن میں اصلاح کر دی جائے ۔ دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ غیر مقلدین کو ہدایت عطا فرمائیں اور امت کو اس فتنے سے بچائیں۔ آمین
نفس کے پجاری
غیر مقلدین کے نزدیک منی پاک ہے ۔ کھانا بھی جائز ہے:
مشہور غیر مقلد عالم نواب نور الحسن خان لکھتے ہیں:
منی ہر چند پاک ہے“ (عرف الجادی ۔ ص10)
اور معروف غیر مقلد عالم علامہ وحید الزماں خان لکھتے ہیں:
منی خواہ گاڑھی ہو یا پتلی ، خشک ہو یا تر ہر حال میں پاک ہے۔“(نزل الابرار ۔ ج1ص49)
اور نامور غیر مقلد عالم مولانا ابو الحسن محی الدین لکھتے ہیں:
منی پاک ہے اور ایک قول میں کھانے کی بھی اجازت ہے“( فقہ محمدیہ ۔ ج1ص 46)
تبصرہ : قلفیاں بنائیں۔ کسٹرڈ جمائیں یا آئسکریم بنائیں۔ غیر مقلدین مزے اُڑائیں۔
غیر مقلدین کے نزدیک عورت کی شرمگاہ کی رطوبت پاک ہے
مشہور غیر مقلد عالم علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں :
عورت کی شرمگاہ کی رطوبت پاک ہے“ (کنزالحقائق س16)
ننگی غیر مقلد عورتوں کی کتاب :
معروف غیر مقلد عالم نوب نورالحسن خان لکھتے ہیں:
نماز میں جس کی شرمگاہ سب کے سامنے نمایاں رہی اس کی نماز صحیح ہے“۔ (عرف الجادی ۔ص22)
مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں :
عورت تنہا بالکل ننگی نماز پڑھ سکتی ہے۔ عورت دوسری عورتوں کے ساتھ سب ننگی نماز پڑھیں تو نماز صحیح ہے۔ میاں بیوی دونوں اکٹھے مادر زاد ننگے نماز پڑھیں تو نماز صحیح ہے۔ عورت اپنے باپ ، بیٹے ، بھائی ، چچا ، ماموں سب کے ساتھ مادر زاد ننگی نماز پڑھے تو نماز صحیح ہے“۔ (بدورالاہلہ ۔ ص39)
یہ نہ سمجھیں کہ یہ مجبوری کے مسائل ہوں گے۔ علامہ وحید الزماں وضاحت فرماتے ہیں ”کپڑے پاس ہوتے ہوئے بھی ننگے نماز پڑھیں تو نماز صحیح ہے“۔( نزل الابرار۔ ج1 ص65)
غیر مقلدین کا بہن اور بیٹی سے آلہءتناسل کو ہاتھ لگوانا:
غیر مقلدین کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں:
ہر شخص اپنی بہن ، بیٹی اور بہو سے اپنی رانوں کی مالش کروا سکتا ہے۔ اور بوقت ضرورت اپنے آلہءتناسل کو بھی ہاتھ لگوا سکتا ہے۔“ (فتاویٰ نذیریہ۔ ج3ص176)
پیچھے کے راستے صحبت کرنا غیر مقلدین کے لیے جائز ہے۔
غسل بھی واجب نہیں
معروف غیر مقلدعالم نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں:
شرمگاہ کے اندر جھانکنے کے مکروہ ہونے پر کوئی دلیل نہیں“۔( بدورالاہلہ۔ص175)
آگے لکھتے ہیں:
رانوں میں صحبت کرنا اور دبر (پیچھے کے راستے ) میں صحبت کرنا جائز ہے کوئی شک نہیں بلکہ یہ سنت سے ثابت ہے ۔“ (معاذاللہ ۔ استغفراللہ) (بدورالاہلہ۔ص175)
اور مشہور غیر مقلدعالم علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں:
بیویو ں اور لونڈیوں کے غیر فطری مقام کے استعمال پر انکار جائز نہیں“(ہدیہ المہدی ج1 ۔ ص118)
آگے لکھتے ہیں:
دبر (پیچھے کے راستے ) میں صحبت کرنے سے غسل بھی واجب نہیں ہو تا“ (نزل الابرار۔ ج1ص24)
علامہ وحید الزما ں نے ایک عجیب وغریب مسئلہ غیر مقلدین کے لیے یہ بھی بیان کیا کہ :
خود اپنا آلہءتناسل اپنی ہی دبر میں داخل کیا تو غسل واجب نہیں ۔“(نزل الابرار۔ ج1ص24)
تبصرہ : یہ کیسے ممکن ہے۔ غیر مقلدین تجربہ کر کے دکھائیں۔
غیر مقلدین کے نزدیک متعہ جائز ہے:
علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں:
” متعہ کی اباحت (جائز ہونا قرآن کی قطعی آیات سے ثابت ہے۔“(نزل الابر ار ۔ ج2 ص33)
غیر مقلدین کے نزدیک زنا جائز ہے۔ کوئی حد بھی نہیں:
معروف غیر مقلدعالم نواب نور الحسن خان لکھتے ہیں:
جن کو زنا پر مجبور کیا جائے اس کو زنا کرنا جائز ہے اور کوئی حد واجب نہیں۔ عورت کی مجبوری تو ظاہر ہے۔ مرد بھی اگر کہے کہ میرا ارادہ نہ تھا مگر مجھے قوت شہوت نے مجبور کیا تو مان لیا جائے گااگر چہ ارادہ زنا کا نہ ہو۔“(عرف الجادی ۔ ص206)
تبصرہ : غیر مقلدین کی حکومت آگئی تو یہی کچھ ہو گا۔
غیر مقلدین کا ماں، بہن ، بیٹی کا جسم دیکھنا:
مشہور غیر مقلدعالم نواب نورالحسن لکھتے ہیں:
” ماں ، بہن ، بیٹی وغیرہ کی قبل ودبر (یعنی اگلی اور پچھلی شرمگاہ) کے سوا پورا بدن دیکھنا جائز ہے۔“ (عرف الجادی۔ص52)
تبصرہ : یہ مسائل پڑھ کر ہمیں شرم آتی ہے۔ ناجانے غیر مقلد ان پر عمل کیسے کرتے ہوں گے۔
غیر مقلد عورت کا داڑھی والے مرد کو دودھ پلانا :
علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں:
جائز ہے کہ عورت غیر مرد کو اپنا دودھ چھاتیوں سے پلائے اگرچہ وہ مرد داڑھی والا ہو تا کہ ایک دوسرے کو دیکھنا جائز ہو جائے“۔ (نزل الابرار ج2ص77)
تبصرہ : یاد رہے یہ مسائل قرآن وحدیث کے نام پر بیان کئے جا رہے ہیں۔
غیر مقلد مرد چار سے زائد بیویاں رکھ سکتے ہیں:
نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں:
” چار کی کوئی حد نہیں (غیر مقلدمرد) جتنی عورتیں چاہے نکاح میں رکھ سکتا ہے“۔ (ظفرالامانی۔ ص141)
غیر مقلدین کا اپنی بیٹی سے نکاح:
نواب نورالحسن خان لکھتے ہیں:
اگر کسی عورت سے زید نے زنا کیا اور اسی زنا سے لڑکی پیدا ہوئی تو زید کود اپنی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے۔“ (عرف الجادی۔ ص109)
غیر مقلدین کے نذدیک مشت زنی جائز ہے:
مشہور غیر مقلدعالم نواب نور الحسن خان لکھتے ہیں:
اگر گنا ہ سے بچنا مشکل ہو تو مشت زنی واجب ہے“۔ (عرف الجادی ۔ ص207)
تبصرہ : اور آگے جو لکھا ہے وہ بات قارئین ذرا دل تھام کر پڑھیں ۔
” اور بعض صحابہ ؓ بھی مشت زنی کیا کرتے تھے۔“(معاذاللہ ) (عرف الجادی ۔ ص207)
ایک عورت باپ بیٹے دونوں کے لیے حلال:
علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں:
اگر بیٹے نے ایک عورت سے زنا کیا تو یہ عورت باپ کے لیے حلال ہے۔اسی طرح اس کے برعکس بھی ہے(نزل الابرار ۔ ج 1ص 28)
باپ اور بیٹے کی مشترک بیوی :
علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں:
اگر کسی نے اپنی ماں سے زنا کیا، خواہ زنا کرنے والا بالغ ہو یا نابالغ یا قریب البلوغ ، تو وہ اپنے خاوند پر حرام نہیں ہوئی“۔ (نزل الابرار ج2 ص28)
تبصرہ : بہت خوب ! نکاح اور زنا دونوں کی گاڑی چلتی رہے۔
زنا کی اولاد بانٹنے کا طریقہ :
علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں:
” ایک عورت (غیر مقلدہ ) سے تین (غیر مقلد ) باری باری صحبت کرتے رہے اور ان تینوں کی صحبت سے لڑکا پیدا ہوا تو لڑکے پر قرعہ اندازی ہو گی۔ جس کے نام قرعہ نکل آیا اس کو بیٹا مل جائے گا۔اور باقی دو کو یہ بیٹا لینے والا دو تہائی دیت دے گا۔“(نزل الابرار۔ ج2 ص75)

غیر مقلدین کے لیے بہترین عورت:
علامہ وحیدالزماں لکھتے ہیں:
 غیر مقلدین کے لیے ) بہتر عورت وہ ہے جس کی فرج(شرمگاہ) تنگ ہو اور جو شہوت کے مارے دانت رگڑ رہی ہو اور جو جماع کراتے وقت کروٹ سے لیٹتی ہو“۔ (لغات الحدیث پ6 ص428)
شرمگاہ کا محل قائم رکھنے کا نسخہ:
غیر مقلدین کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں:
” عورت کو زیر ناف بال استرے سے صاف کرنے چاہئیں۔ اُکھاڑنے سے محل (شرمگاہ کا مقام) ڈھیلا ہو جاتا ہے۔“ فتاویٰ نذیریہ۔ ج2 ص526)
غیر مقلدین عورت حیض سے کیسے پاک ہو:
معروف غیر مقلد عالم علامہ وحید الزماں غیر مقلد عورتوں کو حیض سے پاک ہونے کا طریقہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:
عورت جب حیض سے پاک ہو تو دیوار کے ساتھ پیٹ لگا کر کھڑی ہو جائے اور ایک ٹانگ اس طرح اُٹھائے جیسے کتا پیشاب کرتے وقت اُٹھاتا ہے۔ اور روئی کے گالے فرج (شرمگاہ) کے اندر بھرے۔ پھر ان کو نکالے۔ اس طرح وہ پوری پاک ہو گی۔“ (لغات الحدیث)
تبصرہ : کا عجیب وغریب نسخہ ہے۔ غیر مقلد تجربہ کر کے دیکھیں۔
حیض سے پاکی کے لیے خوشبو کا استعمال :
معروف غیر مقلد عالم مولوی ابو الحسن محی الدین لکھتے ہیں:
” حائضہ حیض سے پاک ہو کر غسل کر لے پھر روئی کی دھجی کے ساتھ خوشبو لگا کر شرمگاہ کے اندر رکھ لے“۔ (فقہ محمدیہ۔ ج1 ص32)
تبصرہ : جو قبر کو خوشبو لگائے وہ قبر پرست۔ جو شرمگاہ کو خوشبو لگائے وہ شرمگاہ پرست۔
غیر مقلدین کے نذدیک خنزیر کی عظمت:
علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں:
خنزیر پاک ہے ۔ خنزیر کی ہڈی ، پٹھے ، کھر ، سینگ اور تھوتھنی سب پاک ہیں۔“ (کنزالحقائق۔ ص13)
غیر مقلدین کے نزدیک خنزیر ماں کی طرح پاک ہے:
علامہ صدیق حسن خان لکھتے ہیں:
” خنزیر کے حرام ہونے سے اس کا ناپاک ہونا ہر گز ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ ماں حرام ہے مگر ناپاک نہیں“۔ (بدور الاہلہ۔ ص16)
غیر مقلدین کے نزدیک خنزیر کا جھوٹا اور کتے کا پیشاب ، پاخانہ پاک ہے:
علامہ وحید الزماں خان لکھتے ہیں:
” لوگوں نے کتے اور خنزیر اور ان کے جھوٹے کے متعلق اختلاف کیا ۔ زیادہ راجح یہ ہے کہ ان کا جھوٹا پاک ہے۔ ایسے لوگوں نے کتے کے پیشاب ، پاخانے کے متعلق اختلاف کیا ہے ۔ حق بات یہ ہے کہ ان کے ناپاک ہونے پر کوئی دلیل نہیں۔“ (نزل الابرار۔ ج1 ص50)
گدھی ، کتیا اور سورنی کا دودھ غیر مقلدین کے لیے پاک ہے:
معروف غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں:
گدھی ، کتیا اور سورنی کا دودھ پاک ہے“۔ (بدورالاہلہ ۔ ص18)
تبصرہ : منی بھی پاک اور یہ دودھ بھی پاک۔ غیر مقلدین کا ملک شیک تیار ہے۔
غیر مقلدین کے نزدیک حلال جانوروں کا پیشاب وپاخانہ پاک ہے:
مفتی عبدالستار دہلوی امام فرقہ غربائے اہل حدیث فرماتے ہیں:
حلال جانوروں کا پیشاب اور پاخانہ پاک ہے ۔ جس کپڑے پر لگا ہو اس سے نماز پڑھنی درست ہے ۔ نیز بطور ادویات کے استعمال کرنا درست ہے۔“ (فتاویٰ ستاریہ ۔ ج1 ص105)
تبصرہ : یعنی شربت ِ بنفشہ نہ ملا گھوڑے کا پیشاب پی لیا ۔ پینا ڈول کی بجائے کھوڑے کی لید چبا لی۔ جوارش کمونی کے بجائے بینسے کا گوبر کھا لیا۔
غیر مقلدین کے نزدیک گھوڑا حلال ہے۔ اس کی قربانی بھی ضروری ہے:
نواب نورالحسن خان لکھتے ہیں:
کھوڑا حلال ہے“۔(عرف الجادی ۔ ص 236)
مفتی عبدالستار صاحب لکھتے ہیں:
” گھوڑے کی قربانی کرنا بھی ثابت بلکہ ضروری ہے “۔ (فتاویٰ ستاریہ۔ ج1ص 147-152)
غیر مقلدین کے نزدیک گوہ حلال ہے:
نواب نورالحسن خان صاحب لکھتے ہیں:
گوہ (چھپکلی نماایک جانور) حلال ہے۔“ (عرف الجادی۔ ص236)
غیر مقلدین کے نزدیک خار پشت حلال ہے:
نواب نورالحسن خان صاحب لکھتے ہیں:
خار پشت (کانٹوں والا چوہا) کھانا حلال ہے“۔ (عرف الجادی ۔ ص236)
غیر مقلدین کے نزدیک بحری مردہ حلال ہے:
نواب نورالحسن خان صاحب لکھتے ہیں:
بحری مردہ حلال ہے۔“ (عرف الجادی ۔ ص 236) یعنی مینڈک ، خنزیر ، کچھوا ، کیکڑا، سانپ ، انسان وغیر ہ۔
غیر مقلدین کے نذدیک خشکی کے وہ جانور حلال ہیں جن میں خون نہیں:
نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں:
خشکی کے وہ تمام جانور حلال ہیں جن میں خون نہیں۔“ (بدورالاہلہ ۔ ص 348) یعنی کیڑے ، مکوڑے، مکھی ، مچھر ، چھپکلی وغیرہ ۔
عبداللہ روپڑی کے قرآنی معارف:
غیر مقلدین کے بدنصیب فرقے نے اپنی جنسی آگ بجھانے کے لیے قرآن پاک جیسی مقدس کتاب کو بھی نہ بخشا۔ معروف غیر مقلد عالم اور غیر مقلدین کے محدثِ ذی شان حافظ عبداللہ روپڑی نے قرآن کے معارف بیان کرتے ہوئے عورت اور مرد کی شرمگاہوں کی ہیئت اور مرد وزن کے جنسی ملاپ کی کیفیت جیسی خرافات بیان کر کے اپنے نامہءاعمال کی سیاہی میں اضافہ کیا ہے ۔ آئیے ان کے معارف کے کچھ نمونے دیکھیں۔
عورت کے رحم کی ہیئت:
غیر مقلدین کے محدثِ اعظم عبداللہ روپڑی فرماتے ہیں:
رحم کی شکل تقریباصراحی کی ہے ۔ رحم کی گردن عموماً چھ انگل سے گیارہ انگل اس عورت کی ہوتی ہے ۔ ہم بستری کے وقت قضیب ( آلہءمرد ) گردنِ رحم میں داخل ہوتی ہے اور اس راستے منی رحم میں پہنچتی ہے۔ اگر گردنِ رحم اور قضیب لمبائی میں برابر ہوں تو منی وسط (گہرائی) رحم میں پہنچ جاتی ہے ورنہ ورے رہتی ہے۔ “ (تنظیم ۔ یکم مئی 1932، ص 6، کالم نمبر 1)
تبصرہ : کیا عورت کو اپنی گیارہ انگلیوں سے شادی سے پہلے دلہا کی آلت (آلہ ءتناسل ) ناپ لینا چاہیے کہ منی وسط رحم تک پہنچا سکے گا یا نہیں؟
منی رحم میں پہنچانے کا دوسرا طریقہ :
حافظ عبداللہ روپڑی لکھتے ہیں:
اور بعض دفعہ مرد کی منی زیادہ دفق (زور) کے ساتھ نکلے تو یہ بھی ایک ذریعہ وسط میں پہنچنے کا ہے۔ مگر یہ طاقت اور قوتِ مردمی پر موقوف ہے۔ “ (حوالہ ءبالا )
رحم کا پورا نقشہ:
حافظ عبداللہ روپڑی لکھتے ہیں:
رحم ، مثانہ (پیشاب کی تھیلی) اور رودہ مستقیم (پاخانہ نکلنے کی انتڑی ) کے درمیان پٹھے کی طرح سفید رنگ کا گردن والا ایک عضو ہے جس کی شکل قریب قریب الٹی صراحی کی بتلایا کرتے ہیں مگر پورا نقشہ اس کا قدرت نے خود مرد کے اند رکھا ہے ۔ مرد اپنی آلت (آلہ ءتناسل ) کو اُٹھا کر پیڑو کے ساتھ لگا لے تو آلت مع خصیتین رحم کا پورا نقشہ ہے۔(حوالہ بالا )
تبصرہ: مولانا ثناءاللہ امرتسری غیر مقلد اس پر تبصرہ کرتے ہیں ۔ ”نقشہ بنا دیتے تو شاید مفید ہوتا۔
مرد اور عورت کی شرمگاہوں کا ملاپ اور قرار حمل:
غیرمقلدین کے محدث روپڑی صاحب لکھتے ہیں :
آلت (آلہ ءتناسل ) بمنزلہ گردن رحم کے ہے اور خصیتین بمنزلہ پچھلے رحم کے ہیں ۔ پچھلا حصہ رحم کا ناف کے قریب سے شروع ہوتا ہے اور گردن رحم کی عورت کی شرمگاہ میں واقع ہوتی ہے۔ جیسے ایک آستین دوسرے آتین میں ہو۔ گردنِ رحم پر زائد گوشت لگا ہوتا ہے ۔ اس کو رحم کا منہ کہتے ہیں اور یہ منہ ہمیشہ بند رہتا ہے ۔ ہم بستری کے وقت آلت کے اندر جانے سے کھلتا ہے یا جب بچہ پیدا ہوتا ہے۔ قدرت نے رحم کے منہ میں خصوصیت کے ساتھ لذت کا احساس رکھا ہے۔ اگر آلت اس کو چھوئے تو مرد وعورت دونوں محفوظ ہوتے ہیں، خاص کر جب آلت اور گردنِ رحم کی لمبائی یکساں ہو تو یہ مرد وعورت کی کمال محبت اور زیادتی لذت اور قرار حمل کا ذریعہ ہے۔ رحم منی کا شائق ہے۔ اس لیے ہم بستری کے وقت رحم کی جسم گردن کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ گردن رحم کی عموماً چھ انگشت اسی عورت کی ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ گیارہ انگشت ہوتی ہے۔“ (حوالہ ءبالا )
تبصرہ: حافظ صاحب کو وسیع تجربہ ہے۔
رحم کا محلِ وقوع:
حافظ روپڑی لکھتے ہیں:
منہ رحم کا عورت کی شرمگاہ میں پیشاب کے سوراخ سے ایک انگلی سے کچھ کم پیچھے ہوتا ہے۔“ (حوالہ بالا )
تبصرہ : حافظ صاحب نے خوب پیمائش کی ۔ (ثناءاللہ )
اندر کی کہانی:
حافظ روپڑی غیر مقلد اندر کی پوری کہانی سے واقف ہیں۔ لکھتے ہیں:
اور گردن رحم کی کسی عورت میں دائیں جانب اور کسی میں بائیں جانب مائل ہوتی ہے۔ رحم کے باہر کی طرف اگرچہ ایسی نرم نہیں ہوتی لیکن باطن اس کا نہایت نرم ، چکن دار ہوتا ہے تاکہ آلت کے دخول کے وقت دونوں محفوظ ہوں ۔ نیز ربڑ کی طرح کھینچنے سے کھنچ جاتا ہے تا کہ جتنی آلت داخل ہو اتنا ہی بڑھتا جائے ۔ کنوراری عورتوں میں رحم کے منہ پر کچھ رگیں سی تنی ہوتی ہےں جو پہلی صحبت میں پھٹ جاتی ہے ۔ اس کو ازالہ ءبکارت کہتے ہیں۔“ (تنظیم اہل حدیث روپڑی ، یکم جون 1932۔ ص3، کالم نمبر 3 )
غیر مقلدین کے لیے ہم بستری کی بہترین صورت:
غیر مقلدین کے محدث اعظم حافظ عبداللہ روپڑی لکھتے ہیں:
اور ہم بستری کی بہتر صورت یہ ہے کہ عورت چت لیٹی ہو اور مرد اوپر ہو ۔ عورت کی رانیں اُٹھا کر بہت سی چھیڑ چھاڑ کے بعدجب عورت کی آنکھوں کی رنگت بدل جائے اور اس کی طبیعت میں کمال جوش آجائے اور مرد کو اپنی جانب کھینچے تو اس وقت دخول کرے۔ اس سے مرد عورت کا پانی اکٹھے نکل کر عموماً حمل قرار پاتا ہے۔“ (بحوالہ ءاخبارِ محمدی ، 15جنوری 1939ء، ص 13، کالم نمبر 3)
تبصرہ : غیر مقلدین اس طریقے کو غور سے پڑھیں اور آئندہ اسی طریقے سے ہم بستری کریں۔
قارئین ۔یہ تھے حافظ عبداللہ روپڑی کے قرانی معارف۔ معروف غیر مقلد عالم مولانا محمد جونا گڑھی نے بھی یہ معارف اپنے ”اخبار محمدی“ میں نقل کئے اور عنوان دیا ”عبداللہ روپڑی ، ایڈیٹر تنظیم کے معارف قرآنی ، اسے کوک شاستر کہیں یا لذت النساءیا ترغیب بدکاری؟
مولانا جونا گڑھی کا ان معارف قرآنی پر تبصرہ:
ان معارف قرآنی پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف غیر مقلد عالم شیخ محمد جونا گڑھی ، غیر مقلدین کے مفسر قرآن اور محدثِ ذی شان حافظ عبداللہ روپڑی کے بارے میں لکھتے ہیں:
روپڑی نے معارف قرآنی بیان کرتے ہوئے رنڈیوں اور بھڑووں کا ارمان پورا کیا اور تماش بینوں کے تمام ہتھکنڈے ادا کئے۔“ (اخبار محمدی ، 15 اپریل 1939، ص 13 )
جونا گڑھی کی مہذب زبان :
قارئین محمد جونا گڑھی صاحب کی ”مہذب “ زبان کا نمونہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ۔ افسوس کہ آج سعودیہ میں جو اردو ترجمہ قرآن تقسیم ہو رہا ہے وہ انہیں محمد جونا گڑھی کا ہے ۔ کاش سعودی حکومت کسی متقی عالم کا ترجمہ قرآن شائع کرنے کا اہتمام کرتی۔
اختتامیہ :
قارئین یہ تو تھے بطور نمونہ غیر مقلدین کی چند کتابوں کے چند حوالے ۔ ورنہ اگر آپ غیر مقلدین کی کتابوں کو اُٹھا کر دیکھیں تو آپ کو بے شمار حیا سوز اور گندے مسائل ملیں گے ۔ اور وہ بھی قرآن وحدیث کے نام پر ۔ آخر میں ہم قارئین سے پوچھتے ہیں کہ جتنے گندے اور حیا باختہ مسائل غیر مقلدین نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے منسوب کئے ہیں کیاکسی ہندو ، سکھ ، یہودی یا قادیانی نے بھی اپنے مذہبی پیشواؤں سے منسوب کیے ہیں ؟ یا غیر مقلدین ان سب پر سبقت لے گئے ہیں۔
آخر میں ہم اللہ تبارک وتعالیٰ سے دُعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ غیر مقلدین کو ہدایت کی دولت سے نوازیں اور امت کواس فتنے سے محفوظ رکھیں (آمین )

No comments:

Post a Comment